تدوین و ترتیب: سیدہ ہما جعفری (ایم فل میڈیا اینڈ رلیجن)
حوزہ نیوز ایجنسی|
خلاصہ
عصرِ حاضر میں میڈیا نے انسانی زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کیا ہے۔ فقہ جعفریہ، بحیثیت ایک جامع دینی نظام، میڈیا سے متعلق اصولی اور عملی احکام فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ مقالہ فقہ جعفریہ کی روشنی میں میڈیا کے فقہی احکام کو اُجاگر کرتا ہے، جس میں میڈیا کی اقسام، ان کے جواز و عدم جواز کی شرائط، امر بالمعروف و نہی عن المنکر، غیبت، تہمت، جھوٹ، فساد پھیلانے، پرائیویسی کی خلاف ورزی اور مواد کی تیاری و نشریات کے اصول شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، مراجعِ عظام کے فتاویٰ کی روشنی میں صحافت، اشتہارات، سوشل میڈیا اور فنونِ لطیفہ کے فقہی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے۔
مقدمہ
میڈیا کو عصرِ حاضر کا سب سے مؤثر ذریعہ ابلاغ تسلیم کیا جاتا ہے۔ فقہ جعفریہ میں "فقہ الاعلام" ایک نسبتاً جدید اصطلاح ہے، مگر اس کے اصول قرآن و سنت اور آئمہ معصومین علیہم السلام کی تعلیمات میں گہرائی سے موجود ہیں۔ دورِ حاضر میں مراجعِ عظام، بالخصوص آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی، شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای اور دیگر نے میڈیا کے مختلف پہلوؤں پر فقہی رہنمائی فراہم کی ہے۔ اس مقالے کا مقصد انہی اصولوں و فتاویٰ کی روشنی میں میڈیا کی فقہ کا ایک منظم خاکہ پیش کرنا ہے۔
1. میڈیا کی فقہ کے بنیادی اصول
فقہ جعفریہ میں ہر عمل کا حکم درج ذیل اصولوں پر جانچا جاتا ہے:
· اصالۃ الاباحہ (ہر چیز میں حلت کا اصل ہونا): جب تک کسی کام کی حرمت پر قطعی دلیل نہ ہو، وہ مباح ہے۔
· اصالۃ البرائۃ: شک کی صورت میں ذمہ داری ساقط ہوتی ہے، لیکن یہ اصل اہم امور میں احتیاط کے خلاف نہیں۔
· لاضرر و لا ضرار فی الاسلام: ایسا میڈیا مواد جو جسمانی، روحانی یا معاشرتی ضرر پہنچائے، ناجائز ہے۔
· حرمتِ اعانت علی الاثم: کسی گناہ کے کام میں مدد کرنا حرام ہے، چاہے وہ میڈیا کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو۔
· وجوبِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر: میڈیا اس فریضے کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے، جس کے مخصوص شرائط و مراتب ہیں۔
2. میڈیا کے فقہی احکام کی تقسیم
فقہ جعفریہ میں میڈیا سے متعلق احکام کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
الف۔ واجب
· دینی معارف، اخلاقی تعلیمات اور شرعی احکام کی ترویج جب بقدرِ کفایت واجب عینی یا کفائی ہو۔
· دفاعِ اسلام اور مظلومین کی حمایت کے لیے میڈیا کا استعمال، جب اسی پر موقوف ہو۔
· اسلامی نظام کے تحفظ کے لیے ضروری معلومات کی اشاعت۔
ب۔ حرام
· جھوٹی خبریں پھیلانا، افواہ سازی، الزام تراشی (افتراء)۔
· غیبت، تہمت، گالی گلوچ اور ہجو۔
· فحاشی، عریانیت اور فسق و فجور کی ترویج۔
· مومنین کی تحقیر، بے حرمتی یا ہتکِ عزت۔
· فتنہ انگیزی اور معاشرتی امن کو خراب کرنا۔
· ایسا مواد جو عقائدِ حقه کو نقصان پہنچائے یا شرک و بدعت کا سبب بنے۔
· غیر محرم مرد و عورت کے درمیان ریاکاری یا شہوت انگیز مکالمے و مناظر۔
· موسیقی غنا (مطرب و مناسب مجالس لہو) کی تیاری و اشاعت۔
ج۔ جائز و مستحب:
· علمی، ثقافتی، صحافتی اور معلوماتی مواد جو دینی و اخلاقی حدود میں رہے۔
· ایسی تصاویر اور ویڈیوز جن میں نامحرم پہ نگاہ یا فساد کا خطرہ نہ ہو۔
· کھیل، تفریح اور فنونِ لطیفہ کی وہ اقسام جو لہو و لعب اور گناہ سے خالی ہوں۔
· اشتہارات اور تجارتی تشہیر بشرط صداقت اور دھوکہ دہی سے پرہیز
3. فقہی قواعد کی روشنی میں میڈیا مواد کے ضوابط
3.1 حرمتِ کذب و افتراء (جھوٹ اور بہتان کی حرمت )
قرآن مجید میں ہے: "إِنَّمَا يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ" (النحل:105)۔ میڈیا میں جان بوجھ کر جھوٹ پھیلانا، گمراہ کن اطلاعات دینا اور الزام تراشی کبیرہ گناہ اور حرام ہے۔ خبر کی تصدیق کے بغیر نشر کرنا بھی جھوٹ کے زمرے میں آتا ہے (آیت نبأ: "إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا" الحجرات:6)۔
3.2 غیبت اور تہمت
غیبت یعنی کسی مومن کا عیب اس کی عدم موجودگی میں بیان کرنا جسے وہ ناپسند کرے، حرام ہے۔ میڈیا میں کسی شخصیت کے عیوب بیان کرنا غیبتِ کبیرہ ہے، سوائے اس صورت کے جب:
· مظلوم کی داد رسی کے لیے ہو۔
· دینی یا معاشرتی فساد کو روکنے کے لیے ضروری ہو۔
ظالم کے ظلم کو بے نقاب کرنا ہو، لیکن صرف بقدرِ ضرورت۔
تہمت (بہتان) یعنی وہ عیب لگانا جو اس میں نہ ہو، اس سے بھی زیادہ سنگین گناہ ہے۔
3.3 فحشاء و منکر کی تشہیر
فحشاء (فحاشی، بے حیائی) کی اشاعت حرام ہے، خواہ وہ تصویر، ویڈیو، تحریر یا آواز کے ذریعے ہو۔ "إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ" (النور:19)۔ یہاں محبت سے مراد ترویج ہے۔ میڈیا میں فحش مواد کی تیاری، تقسیم، دیکھنا اور اس پر اجرت لینا حرام ہے۔
3.4 پرائیویسی کی حفاظت
کسی کی ذاتی زندگی، راز، عیوب اور گھریلو معاملات کو اس کی مرضی کے بغیر افشا کرنا حرام ہے۔ فقہ جعفریہ میں "حرمۃ المؤمن" کا اصول ہے کہ مومن کی عزت، مال اور جان محفوظ ہیں۔ کسی کی تصویر یا معلومات اس کی مرضی کے بغیر پھیلانا تجسس ("وَلَا تَجَسَّسُوا" الحجرات:12) اور ایذاء رسانی کے ضمن میں آتا ہے، جسے فقہا ناجائز کہتے ہیں۔
3.5 تصویر سازی اور مجسمہ سازی
مراجعِ عظام کے فتاویٰ میں تصویر کشی (پینٹنگ، فوٹوگرافی، ویڈیو) بذات خود حرام نہیں ہے، لیکن حرام کے ذریعہ یا سبب بننے پر حرام ہو گی، مثلاً:
· نامحرم عورت کی تصویر جس سے شہوت یا فتنے کا خوف ہو۔
· جان دار کی مجسمہ سازی (تھری ڈی) ، بطور احتیاط واجب بعض مراجع (مثلاً آیت اللہ سیستانی) کے نزدیک ناجائز ہے، ٹو ڈی تصاویر جائز ہیں، مگر فساد کا سبب ہوں۔
· فحش یا گمراہ کن مواد کی تصویر کشی قطعاً حرام ہے۔
3.6 موسیقی اور غنا
فقہ جعفریہ میں غنا (گانا جو لہو و لعب اور مناسب مجالسِ فسق و فجور ہو) حرام ہے۔ اگر موسیقی یا گانا غنا کے زمرے میں آئے تو اسے میڈیا پر نشر کرنا، اس سے کمائی کرنا اور اسے فروغ دینا ناجائز ہے۔ البتہ، عام موسیقی جو غنا کی حد تک نہ پہنچے (جیسے فوجی دھنیں، نوحہ، ترنم کے ساتھ قرآن) بعض فقہا کے نزدیک بلا اشکال ہے، بشرطیکہ مواد بھی شرعی حدود میں ہو۔ یہ مسئلہ تقلیدی ہے؛ اپنے مرجع کی طرف رجوع ضروری ہے۔
3.7 مرد و زن کا اختلاط
میڈیا پروگرامز میں نامحرم مرد و عورت کی موجودگی اور مکالمہ: اگر ریاکاری، شہوت انگیزی یا مفسدہ کا خوف نہ ہو اور پردے کی حدود (جسمانی پردہ اور لہجے کا پردہ) ملحوظ رہیں، تو بذات خود حرام نہیں۔ تاہم، لائیو پروگرامز میں بے تکلفی، ہنسی مذاق اور خلافِ عفت رویوں سے پرہیز ضروری ہے۔ اکثر مراجع غیر ضروری اختلاط کو ترک کرنے کی تاکید کرتے ہیں۔اسکے علاوہ خواتین کا گانا جائز نہیں ہے نیزمرثیہ ،نوحہ یا منقبت خوانی بھی صرف گروپ کی صورت میں ہو۔
4. عصری میڈیا کے مخصوص مسائل اور ان کا فقہی حل
4.1 صحافت اور خبررسانی
صحافی کے لیے لازم ہے:
· خبر میں دیانت اور تحقیق۔
· افواہوں سے اجتناب۔
· اسلامی معاشرے کی مصلحت اور وحدت کا تحفظ۔
· دشمن کے پروپیگنڈے کو نہ دہرانا جو فتنہ پھیلائے۔
· مومنین کے عیوب کی پردہ پوشی، سوائے فسادِ عامہ کے۔
خبروں کی اشاعت میں جائز اور ناجائز کی تشخیص فقہی قواعد "تقدیم اہم بر مہم" (اہم کو کم اہم پر ترجیح) کی روشنی میں ہوتی ہے۔
4.2 اشتہارات اور مارکیٹنگ
اشتہارات میں جھوٹ، مبالغہ جس سے دھوکا ہو، حرام ہے۔ کسی حرام چیز (مثلاً شراب، سود، فحش مصنوعات) کی تشہیر حرام ہے۔ نامحرم خواتین کی تصاویر یا بے پردگی والی ویڈیو کا استعمال جائز نہیں۔
4.3 سوشل میڈیا
سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ بنانا اور مواد شائع کرنا مباح ہے، بشرطیکہ:
· غیبت، تہمت، جھوٹ، فحشاء پھیلانا نہ ہو۔
· لوگوں کی نجی تصاویر، گفتگو بغیر اجازت شیئر نہ کی جائیں۔
· غیر محرم سے بے تکلف گفتگو اور چیٹنگ، خاص طور پر شہوت کے ساتھ، حرام ہے۔
· جھوٹی یا گمراہ کن معلومات پھیلانا، فریب دینے والی پوسٹس گناہ کبیرہ ہیں۔
· لائک، شیئر اور کمنٹ میں بھی اگر حرام مواد کی ترویج ہو، تو وہ بھی ناجائز ہے (اعانت علی الاثم)
4.4 فنون لطیفہ: ڈرامہ، فلم، تھیٹر
ایسے ڈرامے اور فلمیں جو شرعی حدود کا لحاظ رکھیں (حجاب، نامحرم کے ساتھ جسمانی تعلق نہ ہو، غنا نہ ہو، جھوٹے عقائد کی ترویج نہ ہو) جائز ہیں۔
· فلموں میں دینی کردار (انبیاء و ائمہ علیہم السلام) کی عکاسی احتیاط طلب ہے؛ اکثر مراجع ان کی تصویر کشی یا اداکاری کو جائز نہیں سمجھتے اگر اس سے توہین یا تحریف کا خطرہ ہو۔
· جھوٹی کہانی پر مبنی فلمیں بذات خود جھوٹ کے زمرے میں نہیں آتیں (کیوں کہ وہ فرضی ہوتی ہیں اور ان سے جھوٹا ہونے کا دعویٰ نہیں کیا جاتا) ، لیکن ان کا مواد اگر گناہ پر مشتمل ہو تو حرام ہوگا۔
4.5 طنز و مزاح (کامیڈی)
مزاح کرنا جائز ہے جب تک کہ اس میں جھوٹ، غیبت، تمسخر، مومن کی توہین یا کسی کی دل آزاری نہ ہو۔ "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ" (الحجرات:11)۔ اسٹینڈ اپ کامیڈی میں دینی مقدسات کا مذاق اڑانا حرام اور بعض صورتوں میں ارتداد تک کا سبب ہو سکتا ہے۔
5. میڈیا اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر
میڈیا اس فریضے کا بہترین پلیٹ فارم ہے۔ اس کے ذریعے معروف کی ترویج اور منکر کا انکار واجب کفائی ہو سکتا ہے، مگر شرائط:
· خود نہی عن المنکر کرنے والا اس منکر کا مرتکب نہ ہو۔
· اثر کا احتمال ہو۔
· مفسدہ (بڑا فساد) لازم نہ آئے۔
· حکومتِ اسلامی کی پالیسی کے خلاف فساد نہ ہو (ولایت فقیہ کے تناظر میں)۔
6. میڈیا ملازمین اور اداروں کی فقہی ذمہ داریاں
· صحافی، اینکر، کیمرہ مین، ایڈیٹر، پروڈیوسر سب اگر حرام مواد کی تیاری و اشاعت میں معاون ہوں تو شریکِ گناہ ہیں۔
· ایسے ادارے میں ملازمت جہاں بنیادی طور پر حرام کام ہوتا ہو (مثلاً فحش چینل، سودی بینک کی تشہیر) جائز نہیں۔
· اگر ادارہ مخلوط کام کرتا ہو (کچھ حرام کچھ حلال) تو جائز ہے بشرطیکہ انسان خود حرام میں ملوث نہ ہو اور اسے ترک کرنے پر قادر ہو۔
· اجرت: حرام کام کی اجرت حرام ہے۔ حلال پروگرام کی اجرت حلال ہے۔
7. مراجعِ عظام کے فتاویٰ سے چند اقتباسات
آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی (دام ظلہ) کے فتاویٰ کا خلاصہ:
· غیر محرم عورت کی تصویر یا ویڈیو دیکھنا اگر شہوت یا فتنے کا باعث نہ ہو اور وہ بے پردہ نہ ہو، تو حرام نہیں، لیکن احتیاط یہ ہے کہ نامحرم کے چہرے اور ہاتھوں کے علاوہ بدن کی تصویر نہ دیکھی جائے۔
· موسیقی جو مناسب مجالس لہو و لعب ہو، حرام ہے۔ کلاسیکی موسیقی یا بغیر غنا کے دھنیں اگر اہلِ فسق کی محفلوں جیسی نہ ہوں تو بعض صورتوں میں بلا اشکال ہیں، مگر تشخیص مشکل ہونے کی بنا پر احتیاط کا حکم ہے۔
جانداروں کے مجسموں کی تھری ڈی ساخت حرام ہے، مگر تصویر (پینٹنگ، فوٹو) مکروہ نہیں، جب تک حرام کے لیے استعمال نہ ہو۔
شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے نظریات:
· میڈیا کو "جہادِ تبیین" ( حقیقت کے بیان )کا ذریعہ ہونا چاہیے۔
· مغربی ثقافتی یلغار کے مقابلے میں اسلامی میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ دین اور اخلاقیات کی ترویج کرے۔
· ایسے پروگرام جو خاندانی نظام کو کمزور کریں، ان کی تیاری و نشر جائز نہیں۔
8. نتیجہ
فقہ جعفریہ میں میڈیا کے لیے ایک جامع اصولی ڈھانچہ موجود ہے۔ یہ اصول لچکدار ہیں اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ مواد کی تخلیق و ترسیل میں حلال و حرام کے شرعی پیمانوں کو ملحوظ رکھا جائے۔ میڈیا کو معاشرے میں ایک ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے اور فقہی حدود کی پاسداری کرتے ہوئے دین، اخلاق اور انسانیت کی خدمت کرنی چاہیے۔ محققین اور میڈیا کارکنوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے مخصوص مسائل میں کسی جامع الشرائط مجتہد کی طرف رجوع کریں، کیونکہ بہت سے معاملات شبہہ ناک ہوتے ہیں اور ذاتی رائے کافی نہیں ہوتی۔
حوالہ جات (دقیق مصادر کے ساتھ)
1. قرآن کریم
· حرمت کذب و افتراء:
· سورۃ النحل (16): 105: "إِنَّمَا يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ"۔
· سورۃ الحجرات (49): 6: "إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا" (خبر کی تحقیق واجب)
· حرمت غیبت و تجسس:
· سورۃ الحجرات (49): 12: "وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا"۔
· حرمت اشاعت فحشاء:
· سورۃ النور (24): 19: "إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ"۔
· حرمت استہزاء و تمسخر (طنزِ ناجائز):
· سورۃ الحجرات (49): 11: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ"۔
· امر بالمعروف و نہی عن المنکر:
· سورۃ آل عمران (3): 104: "وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ" (وجوب کفائی کی بنیاد)
2. احادیثِ معصومین علیہم السلام
· غیبت کا کبیرہ گناہ:
· الکافی، شیخ کلینی، جلد 2، کتاب الایمان و الکفر، باب الغیبۃ، حدیث 1:
"الغِيبَةُ أَشَدُّ مِنَ الزِّنَا..." (غیبت زنا سے بڑھ کر ہے)۔ (طبع جدید: ج2، ص357، ح1)
· لاضرر و لا ضرار:
· الکافی، ج5، کتاب المعیشۃ، باب الضرار، ح1 (وسائل الشیعہ، ج26، کتاب الوصایا، ابواب احکام الوصایا، باب لا ضرر)
· جھوٹ کا کبیرہ گناہ:
· وسائل الشیعہ، حر عاملی، ج12، کتاب الحج، ابواب احکام العشرۃ (باب تحریم الکذب) ، ح16312: "إِنَّ الْكَذِبَ مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ"۔
· فحشاء کی اشاعت کی ممانعت:
· وسائل الشیعہ، ج14، کتاب النکاح، ابواب مقدمات النکاح، باب تحریم اشاعۃ الفاحشہ، احادیث متعددہ۔
· حرمتِ اعانت علی الاثم:
· وسائل الشیعہ، ج17، کتاب التجارۃ، ابواب ما یکتسب بہ، باب 42 (اعانۃ الظالمین و اعانت علی الاثم) ، ح1: "مَنْ أَعَانَ عَلَى قَتْلِ مُؤْمِنٍ بِشَطْرِ كَلِمَةٍ..." قاعدہ کلی کے طور پر معتبر ہے۔
3. فقہی متون و فتاویٰ (مراجع عظام)
الف۔ آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی (دام ظلہ)
· توضیح المسائل جامع (عربی/اردو):
· مجسمہ سازی ( تھری ڈی):
· مسئلہ 2057: "مجسمہ سازی یعنی جاندار چیز کا بت یا مجسمہ بنانا احتیاط واجب کی بنا پر حرام ہے۔" (توضیح المسائل جامع، ج2، ص587-588)
· تصویر کشی (دو بُعدی):
· مسئلہ 2058: "تصویر بنانا (مثلاً پینٹنگ، فوٹو گرافی، ویڈیو) حرام نہیں ہے، مگر جب تک حرام مقدمات یا فساد کا سبب نہ بنے۔"
· غنا و موسیقی:
· مسئلہ 2074: "غنا (یعنی گانا جو لہو و لعب اور حرام مجالس کے مناسب طریقے سے گایا جائے) حرام ہے۔"
· مسئلہ 2076: "موسیقی (ساز بجانا) اگر غنا کی حد تک نہ پہنچے اور لہو و لعب کی مجلسوں کے مناسب نہ ہو، تو بذات خود حرام نہیں، لیکن اگر اس کا استعمال حرام امور میں ہو تو حرام ہوگا۔" (یہاں "مناسب مجالس لہو و لعب" کی تعبیر کلیدی ہے)۔
· مہم فقہی استفتاء ات و کتابیں:
· تصویر اور نامحرم کا دیدار:
· کتاب "فقہ برائے مغرب نشین مسلمانان" (A Code of Practice for Muslims in the West) )، استفتاء نمبر 113
· سوال: کیا مسلمان خواتین کی بغیر حجاب تصاویر لینا اور شائع کرنا جائز ہے؟
· جواب: "اگر وہ مسلمان ہیں، تو جائز نہیں ہے۔"
· ایضاً، استفتاء نمبر 108: نامحرم کی طرف دیکھنے کا حکم، شہوت کے بغیر، چہرے اور ہاتھوں تک محدود ہو تو بلا اشکال۔
· صحافت اور خبروں کی شرائط:
· موقع رسمی sistani.org، سوال و جواب، باب "مسائل متفرقۂ رسانہ":
"خبر کی تحقیق کے بغیر نشر کرنا اگر مومنین کے حق میں ضرر، فتنہ یا افتراء کا سبب بنے تو حرام ہے۔" (استفتاء نمبر 967543، تاریخ 5/3/1445)
ب۔ آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای (دام ظلہ)
· رسالہ اجوبۃ الاستفتاء ات (عربی/فارسی/اردو):
· سینما، تھیٹر اور اداکاری:
· سوال 1038 (حصہ سینما و تھیٹر): "اگر فلم یا ڈرامے میں شرعی احکام (حجاب، نامحرم کے ساتھ اختلاط، موسیقی حرام، جھوٹ اور بہتان ) کی خلاف ورزی نہ ہو اور اس سے دینی و اخلاقی تعلیمات کی ترویج ہو، تو اس کی تیاری و نمائش جائز ہے۔"









آپ کا تبصرہ